اہم خبریں

حکومت مخالف تحریک، ن لیگ اور پی پی پی رضامند

کیا حکومت مخالف تحریک چلے گی ، کیا مولانا فضل الرحمان  کے آزادی مارچ میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں شریک ہونگی یا نہیں ۔شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد تمام ابہام ختم ہو گئے ، واضح اور دو ٹوک فیصلہ سامنے آ گیا ، ن لیگ اور پی پی پی آزادی مارچ میں شریک ہونگے۔ تاہم فی الوقت فضل الرحمان سے آزادی مارچ موخر کرنے کا کہا جائے گا ۔۔

اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری نے قائد حزب اختلاف اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی۔

ملاقات میں راجا ظفر الحق، رانا تنویر، احسن اقبال، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، فرحت اللّٰہ بابر، نوید قمر، شیری رحمٰن و دیگر رہنما شریک تھے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت بھی مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ میں شرکت پر رضا مند ہوگئی ہے۔

ن لیگ اور پی پی کی قیادت نے آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف اور بلاول بھٹو مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات میں مولانا حنیف کے قتل پر تعزیت بھی کریں گے۔

دونوں اپوزیشن جماعتوں نے طے کیا ہے کہ آزادی مارچ کی جزیات طے کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مشورہ دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کی تجویز ہے کہ آزادی مارچ نومبر میں کیا جائے جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے واضح کیا کہ وہ آزادی مارچ میں شریک ہوگی لیکن دھرنے میں شامل نہیں ہوگی۔ملاقات کے بعد ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام ابہام ختم ہو گئے ہیں ۔ اپوزیشن کو متحد ہو کر حکومت کے خلاف میدان میں آنا چاہیے

ملک کو بند گلی سے نکالنے کے لئے آئینی اور جمہوری راستہ نئے الیکشن ہیں ۔ سیاسی قوتوں کو حکومت کے خلاف  مشترکہ پلان بنانا چاہیے،، ،  کل مولانا فضل الرحمان  سے ملاقات کر کے تمام معاملات سے آگاہ کیا جائے گا  ،،، اس  موقع پر  پی پی پی رہنما  شیری رحمان نے کہا کہ  پاکستان  کے عوام مشکل امتحان سے گزر رہے ہیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close