بین الاقوامی

ٹرمپ اور یوکرائنی صدر کے درمیان مشکوک گفتگو کیسے لیک ہوئی؟

اس وقت امریکہ میں ایک ایسے ٹرینی صحافی کے تذکرے عام ہیں جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرائن کے صدر کے درمیان ہونے والی مشکوک گفتگو کو عام لوگوں تک پہنچا دیا ۔ وائٹ ہاؤس میں نامی گرامی صحافی بھی اس خبر تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ ایسا نہ کرپائے مگر ایک بیس  سالہ ٹرینی صحافی نے خبر بریک کی اور سب کو حیران کر دیا ۔ حتی کہ صدر ٹرمپ بھی حیران ہیں اور اپنے پر مقدم کرانے والے اس صحافی سے ملنے کے خواہاں بھی ہیں ۔ اُن کاکہنا ہے کہ میں بھی عام لوگوں کی طرح اس نوجوان صحافی سے ملنا چاہتا ہوں ۔

طالب علم اینڈریو ہووارڈ نے 27 ستمبر کی شام ہی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر نیوز بریک کی کہ وائٹ ہاؤس کے مستعفی ہونے والے اہلکار کا نام کُرٹ ڈی وولکر ہے اور وہ یوکرائن کے لیے امریکی صدر کے خصوصی مشیر کے منصب پر فائز تھے۔ اس خبر نے  ٹائمز یا اے پی جیسی نیوز ایجنسی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

اینڈریو ہووارڈ کی خبر نے امریکا میں تہلکہ مچا دیا ہے اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد اس خبر پر ششدر رہ گئے ہیں۔ نہایت حساس ملکی معاملہ قرار دیکر وائٹ ہاؤس نے ہر ممکن طریقے سے اسئے چھپانے کی کوشش بھی کی تھی لیکن 20 سالہ طالب علم سے ہار گئے۔

یا د رہے کہ امریکی صدر اور یوکرائنی صدر کے درمیان ہونے والی ’مشکوک گفتگو‘ پر وائٹ ہاؤس کے ایک اہم عہدے پر فائز اہلکار نے نہ صرف استعفیٰ دے دیا بلکہ ’مشکوک گفتگو‘ سے متعلق ایک باقاعدہ شکایت انسپکٹر جنرل کو درج بھی کرائی۔ وائٹ ہاؤس نے ایسے کسی واقعے پر چپ سادھ لی تھی اور مستعفی اہلکار کا نام ظاہر نہ کیا

 

دوسری جانب ان معلومات کی بنیاد پر اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ پارٹی نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے تیاریوں میں تیزی لائی ہے اور عین ممکن ہے ایوان نمائندگان میں مواخذے کا عمل جلد شروع ہوجائے جس سے تنازعات میں گھرے صدر ٹرمپ کا اپنا دامن بچانا مشکل ہوجائے گا

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close