کالمز

ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرنے کی پیشکش کیا کی جنوبی ایشیا میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ پیشکش پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ان کی پہلی ملاقات میں کی گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان سے اس معاملے کو حل کرانے کی درخواست کی ہے۔

تاہم جہاں پاکستان کی جانب سے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے وہیں انڈیا نے اس مسئلے کے حل میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ KhanMeetsTrump ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جبکہ ہیش ٹیگ کشمیر بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے صدر ٹرمپ کی کشمیر کے تنازعے پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کی پیشکش پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے اور اس معاملے پر انڈیا کی مستقل پوزیشن یہی رہی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب وہ سرحد پار ہونے والی دہشت گردی ختم کرے

دو حصوں پر مشتمل اپنی ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین تعلقات دو طرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ موجود ہیں۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والے سیاسی مشیر گورو پانڈھی نے لکھا کہ وزیراعظم مودی کو پارلیمنٹ میں آ کر وضاحت دینا ہو گی، وزارت داخلہ کی جانب سے صرف ایک ٹوئٹ کافی نہیں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ اگر امریکی صدر نے جھوٹ بولا ہے تو بی جے پی حکومت بتائے کہ وہ کس طرح انھیں جواب دینے کا ارادہ رکھتی ہے؟سابق انڈین فوجی اور دفاعی تجزئیہ کار میجر گورو نے طنز کرتے ہوئے لکھا ’ کچھ گھنٹوں کے لیے پاکستان میں شدید جوش و جذبہ تھا اس سے پہلے کے انھیں پتہ چلا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔

بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے لکھا ’ کشمیر پر امریکی صدر کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آج امریکی نظام میں بہت بڑا مسئلہ موجود ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس میں انڈیا اور جنوبی ایشیا معاملات کی ماہر لیزا کرٹس کی موجودگی کے باوجود اگر وہ اس طرح کا بیان دیتے ہیں تو بنیادی طور پر کچھ غلط ہے۔‘

اخبار فائنینشل ٹائمز کے مدیر ایڈورڈ لیوس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کے تنازع پر ثالثی کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ’کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کر کے ٹرمپ نے انڈیا کو شدید اشتعال دلایا ہے۔ انڈیا نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کیا ہے۔ چین امریکہ کے ساتھ رقابت میں انڈیا امریکہ کا سب سے اہم ’قدرتی اتحادی‘ ہے۔ ٹرمپ کی بے وقوفی اور لاعلمی کو بیان کرنا مشکل ہے

انڈین وزارت داخلہ کی جانب سے وضاحتی بیان آنے کے باوجود پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین امریکی صدر کی اس پیشکش کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ کیا انڈیا کے مطابق امریکی صدر جھوٹے ہیں؟

صحافی غریدہ فاروقی نے انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کی ٹویٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’ اوہ انڈیا تم نے خود کو جلا دیا۔

بشکریہ: بی بی سی اُردو

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close