فیچر کالمز

آئس نشہ کیا ہے؟ نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا رحجان؟

سی نیوز پیڈیا ڈیسک

آج کل ہمارے ملک کی نوجوان نسل میں آئس نشہ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے ۔ اب تک کی سامنے آنے والی رپورٹس انتہائی خوفناک نتائج کی سامنے لا رہی ہیں تاہم حکومت ابھی تک اس اہم ترین معاملے پر توجہ دینے میں ناکام ہے ۔ اینٹی نارکو ٹیکس کا ادارہ بھی ابھی تک وہ کام نہیں کرپایا کہ اس نشے کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت اس جانب توجہ مبذول کرانے کے لئے تیار ہے   پاکستان اس وقت ان ممالک میں شامل ہے جس کی آبادی کا سب سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ’’اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام‘‘ (یو این ڈی پی) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی64 فیصد آبادی30 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد آبادی کی عمر15 سے 29برس کے درمیان ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک میں افغانستان کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جس کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان کو اگلے پانچ برس کے دوران 45 لاکھ نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرنا ہے۔ کسی بھی ملک کو ترقی کی منازل پر لے جانے کے لیے اس کے نوجوان اثاثہ ہوتے ہیں۔ تاہم شاید ہمارے حکمران نوجوانوں کے سر پر منڈلاتے ’’ہائیڈروجن بم سے بھی خطرناک‘‘ منشیات مافیا سے آنکھیں پھیرے ہوئے ہیں۔گزشتہ برس سندھ رینجرز نے جرائم پیشہ عناصر کی اطلاع پر کراچی کے ایک علاقے میں چھاپا مارا جہاں سے انہیں پأؤڈر کے ڈرم ملے۔ اس سفوف کو دیکھ کر پہلے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ آخر یہ کیا مواد ہے۔ کیمیکل تجزیئے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ رینجرز کو ملنے والا سفید پأؤڈر درحقیقت ایکسپائرڈ یعنی زائدالمیعاد ادویات کا چورا تھا جن میں پیراسیٹامول، پیناڈول کی گولیاں شامل تھیں۔ گرفتار ہونے والے افراد سے مزید تفتیش کے بعد یہ معلوم ہوا کہ زائد المیعاد پیراسیٹامول، پیناڈول اور وِکس کو جرائم پیشہ گروہ کراچی میں جمع کرتے ہیں اور پھر اسے کوئٹہ میں مقیم افغان ڈرگ پیڈلر کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ ان ادویات کو پیسوں کے عوض فروخت نہیں کیا جاتا بلکہ افغان اسمگلر زائد المیعاد گولیوں کے چورے کے بدلے نیا نشہ ’’کرسٹل میتھ‘‘ فراہم کرتے ہیں۔ اس نئے نشے کو نوجوانوں میں ’’آئس‘‘ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے جو کہ ہیروئن اور کوکین سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کے مطابق ایکسپائر ہوجانے والی پیراسیٹامول، پیناڈول،وکس اور دیگر نزلہ، زکام کی ادویات سے اسمگلرز ایفیڈرین (Ephedrine ) اور ڈی ایکس ایم یعنی ڈیکسٹرو میتھورفان نکالتے ہیں جس سے ’’آئس‘‘ نامی نشہ تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قارئین کے ہوش اْڑا دے گی کہ نزلہ زکام کی ایکسپائرڈ ادویات کا یہی چورا مرغیوں، مچھلیوں، گائے اور بھینسوں کی فیڈ تیار کرنے میں بھی شامل کیا جارہا ہے۔منشیات کا گھناؤنا کاروبار دنیا کے بدنام ترین غیر قانونی کاروبار میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2003ء میں منشیات کی اسمگلنگ سے 320 ارب ڈالرز کا بزنس کیا گیا تھا اور 2016ء میں منشیات کی اسمگلنگ سے500 ارب ڈالرز کا کاروبار ہوا۔ ’’انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ‘‘ (آئی این سی بی)کی رواں برس جاری ہونے والی رپورٹ میں پاکستان میں ایفیڈرین کی مانگ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2013ء سے 2017ء تک پاکستان میں دوا سازی کے لیے سالانہ کم و بیش 50 ٹن ایفیڈرین حاصل کی جارہی ہیں۔ شام اور ترکی میں بھی دوا ساز کمپنیاں سالانہ 50 ٹن ایفیڈرین حاصل کر رہی ہیں۔ ’’آئی این سی بی‘‘ نے ایفیڈرین کے اتنے زیادہ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ دواساز کمپنیوں کو اس بات کا پابندکیا جائے کہ وہ غیر ضروری طور پر ادویات میں ایفیڈرین شامل نہ کریں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہانگ کانگ میں سات ہزار ایفیڈرین کی حامل ٹیبلٹس کو پکڑا گیا جو کہ پاکستان میں تیار کی گئی تھیں۔

ایفیڈرین حاصل کرنے اور اس سے’’کرسٹل‘‘ یا ’’آئس‘‘ کی تیاری کے لیے منشیات فروش گروہ ادویات ساز کمپنیوں اور ہول سیل مارکیٹوں سے زائد المیعاد ادویات خرید لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اسپتالوں کے اسٹورز سے ادویات چوری کی جاتی ہیں۔ کراچی کا علاقہ کچھی گلی ادویات کی فروخت کے حوالے سے پورے ملک میں مقبول ہے۔ تاہم یہی علاقہ ایکسپائرڈ اور جعلی ادویات کی فروخت کا گڑھ بھی ہے۔ کچھی گلی سے ہی سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور یہاں تک کہ افغانستان کی غیر قانونی ادویات بنانے والی کمپنیوں کو کیمیکلز اور خام مال فروخت کیا جاتا ہے۔ پھر اسی خام مال سے تیار شدہ جعلی ادویات کچھی گلی میں دوبارہ فروخت کے لیے بھی آتی ہیں۔ ’’ایف آئی اے‘‘ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ہمراہ مسلسل کچی گلی میں چھاپے مار کر اس مکروہ دھندے کی روک تھام کی کچھ کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ان کی یہ کوشش آٹے میں نمک کے برابر ہے جس کی وجہ کمزور قوانین ہیں۔
’’کرسٹل میتھ ‘‘یا ’’آئس ‘‘ کیا ہے؟ اس نشے کو ’آئس ہیروئن‘‘ اور دیگر ناموں سے بھی فروخت کیا جارہا ہے اور یہ تیزی سے نوجوانوں میں فیشن کی طرح مقبول ہورہا ہے۔ کراچی کے پوش علاقوں سمیت یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نوجوان بھی اس منشیات میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس سے والدین اور متعلقہ محکمہ لاعلم دکھائی دیتا ہے۔ ’’آئس‘‘ چونکہ کسی پودے سے تیار نہیں کی جارہی، اس لیے اسے دنیا بھر میں چرس اور ہیروئن سے زیادہ مقبولیت مل رہی ہے۔ چرس اور ہیروئن کے پودوں کی کاشت اور ان کی اسمگلنگ میں منشیات فروشوں کو زیادہ مشکلات پیش آتی تھیں جبکہ اس کی بہ نسبت ’’آئس‘‘ کو ایک مقام پر تیار کیا جاسکتا ہے۔’’کرسٹل میتھ‘‘ نشے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ’’ کرسٹل‘‘ یا ’’آئس‘‘ نامی یہ نشہ ’’میتھ ایمفٹامین‘‘ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر ایک کرسٹل کی قسم کی سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ اس کے لیے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ نشہ کرنے والے اسے انجکشن کے ذریعے بھی جسم میں داخل کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق’’آئس‘‘ کے مسلسل استعمال سے انسان میں خوشی اور مسرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور کسی توانائی کے مشروب کی طرح جسم میں طاقت محسوس ہوتی ہے۔ ’’آئس‘‘ پینے کے بعد انسان کے اندر توانائی دگنی ہوجاتی ہے اور ایک عام شخص 24 سے لے کر 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے، اس دوران انہیں بالکل نیند نہیں آتی۔ ’’آئس‘‘ کا شکار رہنے والے ایک فرد کا کہنا ہے کہ اس نشے میں انسان کا حافظہ انتہائی تیز کام کرتا ہے اور اس میں بے پناہ توانائی آجاتی ہے۔ تاہم جب نشہ اترتا ہے تو انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔ یہ نشہ بالکل کوکین کی طرح کام کرتا ہے لیکن یہ کوکین سے سستا اور اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایک گرام کوکین 10ہزار سے 12 ہزار روپے کے درمیان میں فروخت ہوتی ہے جبکہ ایک گرام ’’آئس‘‘ 1500 روپے سے تین ہزار روپے میں بھی فروخت ہورہی ہے۔ ’’آئس‘‘ کا نشہ کرنے والے اکثر افراد پاگل پن کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں کہ وہ ہر قریبی شخص کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی انہیں قتل کرنے کی سازش کررہا ہے۔ کراچی میں پولیس اور رینجرز بعض ایسی لیبارٹریز پر چھاپے مار چکی ہے جہاں ’’کرسٹل‘‘ تیار کی جاتی تھی جبکہ اس کی ایک بڑی مقدار افغانستان سے اسمگل ہو کر آتی ہے
نوجوانوں کو نشے کی لت کیوں پڑ رہی ہے؟ نفسیات و منشیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ منشیات کے استعمال کی تین بنیادی وجوہات ہیں، جن میں ذہنی دبائو سرفہرست ہے۔ یہ دبائو جذباتی، معاشرتی، گھریلو حالات اور تعلیم کا بھی ہو سکتا ہے۔ منشیات کی لت کی دوسری وجہ شخصیت کا عدم توازن ہے اور تیسری وجہ دوستوں کا دبائو ہے۔ یعنی کچھ دوست اگر منشیات استعمال کرتے ہیں تو دوستوں کے دبائو میں آکر نوجوان اس کا استعمال شروع کر دیتا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے امیر گھرانوں کے نوجوانوں کو دیکھ کر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی ’’آئس‘‘ کی لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ امیر گھرانوں کے نوجوانوں میں ’’آئس‘‘ کے استعمال کی ایک وجہ جنسی قوت میں اضافے کی خواہش بھی بتائی جاتی ہے، تاہم اس کے برعکس ’’آئس ہیروئن‘‘ کی لت انسان کو ذہنی اور جسمانی معذوری میں مبتلا کر رہی ہے۔ منشیات دماغ کے خلیوں میں عدم توازن پیدا کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں دماغ اس طرح سے کام نہیں کرتا جس طرح سے عام لوگوں کا کرتا ہے اور نتیجتاً انسان ذہنی، جسمانی اور سماجی طور پر معذور ہو جاتا ہے۔ ’’مائیکرو سافٹ‘‘ کے بانی بل گیٹس کے تحقیقاتی ادارے ’’انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایوولیشن‘‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2005 ء سے2016 ء￿ کے دوران منشیات کے استعمال کے نتیجے میں معذوری کا شکار ہونے والے افراد میں 98 فیصد اضافہ ہوا ہے اور منشیات کے عادی نوجوانوں میں ذہنی معذوری تیزی سے بڑھ رہی ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close