اردوادب

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں‘

شاعری اور ادب کی بیٹھک ہو یا سیاست پر شاعری کے اثرات، ایسا ممکن نہیں کہ فیض احمد فیض کا تذکرہ نہ چھڑے

فیض احمد فیض کی حوالے سے اردو ادب کے بہت سے ناقدین بڑے واضح انداز سے کہتے ہیں کہ وہ میر تقی میر، غالب اور اقبال کے بعد سب سے بڑے شاعر تھے اور مقبولیت کے اعتبار سے بھی فیض ایک لازوال شاعر کے طور پر جانے مانے جاتے ہیں۔

لاہور میں تین روزہ فیض میلہ، نوجوانوں کی شرکت نماياں

لاہور میں فیض میلہ جاری

فیض تیرہ فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ سیالکوٹ وہی شہر ہے، جہاں علامہ محمد اقبال نے بھی آنکھ کھولی تھی۔ فیض صاحب نے جب لکھنا شروع کیا، تو اس وقت ان کے عہد میں جگر مراد آبادی، فراق گورکھپوری اور جوش ملیح آبادی کہنہ مشق شعراء موجود تھے۔ لیکن فیض کے منفرد انداز نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ فیض نے غم دنیا اور غم جاناں، غم دوران اور غم ہجراں اور غم عشق اور غم روزگار کو کچھ اس طرح سے ایک دوسرے سے ملایا کہ غم دوراں غم جاناں بن گیا اور غم روزگار غم عشق میں تبدیل ہو گیا۔

عوامی سطح پر آج بھی ’گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے‘ جیسی غزل ہو، یا ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ جیسی نظم، فیض کا کلام آج بھی بڑے شوق سے سنا اور سنایا جاتا ہے۔ شاعروں کے حلقوں یا ادبی بیٹھکوں میں آج بھی یہی نعرہ مستانہ بلند ہوتا سنائی دیتا ہے، ’’ہم آج بھی فیض کے دور میں زندہ ہیں۔‘‘

فیض کی شعری تصانیف میں نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، شام شہر یاراں، سرِوادیء سینا، مرے دل مرے مسافر اور ان کا مجموعہ نسخہ ہائے وفا شامل ہیں۔

فیض انگریزی، اردو اور پنجابی کے ساتھ ساتھ فارسی اورعربی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے ان زبانوں کی کلاسیکی شاعری سےبراہ راست استفادہ کیا۔ اردو کی کلاسیکی شاعری پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی۔

فیض احمد فیض نے 1930 میں برطانوی شہری ایلس سے شادی کی تھی، جنہوں نے بعد میں پاکستانی شہریت اختیار کر لی۔ وہ بھی شعبہ تحقیق سے وابستہ تھیں اور فیض کی شاعری اور شخصیت سے متاثرتھیں۔

فیض نے 1935میں ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت کی پھر 1942 میں فوج میں کپتان کی حیثیت سے شامل ہو گئے اور فوج کے محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا۔ 1943 میں میجر اور پھر 1944 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پا گئے۔ 1947 میں انہوں نے فوج سے استعفیٰ دے دیا تھا اور 1959ء میں پاکستان آرٹس کونسل میں سیکرٹری تعینات ہوئے۔ پھر 1962 تک وہیں کام کیا ۔ اس کے علاوہ ادبی رسالہ ادب لطیف کے مدیراور اس کے بعد روزنامہ پاکستان ٹائمز، روزنامہ امروز اور ہفت روزہ لیل ونہار کے مدیر اعلٰی بھی رہے۔

نو مارچ 1951 کو فیض احمد فیض راولپنڈی سازش کیس میں معاونت کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ انہوں نے چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدر آباد اور کراچی کی جیلوں میں گزارے۔ دو اپریل 1955 کو انہیں رہا کر دیا گیا۔

کلاسیکی شعراء کی گہری چھاپ ان کے ہاں نظر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ترقی پسندی کی تندوتیز آندھی میں بھی ان کی شاعری کا معیار برقرار رہا ۔ ایک کامیاب اور نشیب وفراز سے بھر پور زندگی گزارنے کے بعد فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو انتقال کر گئے

 

بشکریہ وائس آف جرمنی اُردو

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close