کالمز

سانحہ ساہیوال۔۔؟

تحریر:پروفیسر میاں افتخارالحسن

 

سانحہ ساہیوال پیش آئے کافی دن گزر چکے ۔۔کئی دوسرے واقعات کی طرح ابتدا ئی کچھ روز اس سانحہ کو لیکر کافی ہلہ گلہ رہا ۔حکومت وقت کو کہیں سے تیقند تو کہیں سے مشوروں کا بازار گرم رہا  جبکہ ورثا اور لوگ سراپا احتجاج بھی دکھائی  دیئے ۔۔لکھا بھی گیا اور فضا بھی سوگوار رہی ۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب متحرک بھی ہوئے اور ابتدائی رپورٹ بھی سامنے آئی ۔۔کچھ سی ٹی ڈی اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتار بھی کر لیا گیا ۔۔فرانزک رپورٹ کا ڈرامہ بھی رچایا گیا ۔۔پہلے دن سے ایک جے آئی ٹی متحرک ہے تحقیقات جاری ہیں اور یقینا سبھی کو انتظار ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آئے اور اس قدر دل سوز واقعے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ اُن معصوم بچوں کو انصاف مل جائے جن کو ابھی اپنے مستقبل کا بھی علم نہیں ۔۔

واقعہ جب پیش آیا  دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ سامنے آیا مگر کچھ وقت کے بعد دس سالہ عمیر نے واقعے سے پردہ اُٹھا دیا تو ہر طرف کہرام مچ گیا ، عام عوام سے لیکر اراکین اسمبلی تک  چھوٹے سے بڑے تک ہر طرف  سےانصاف کے لئے آواز اٹھائی گئی  اور میڈیا نے ہر آواز اعلیٰ حکومتی ایوانوں تک پہنچائی ۔۔وقت گزار ،احتجاج ٹھنڈا ہوا ملک میں جاری سوگ کی فضا کی شدت بھی کم ہوئی ابتدائی رپورٹ بھی سامنے آئی تو ایسے میں پھر دس سالہ عمیر کے جے آئی ٹی کو دیئے گئے بیان کی تفصیلات سامنے آئیں تو دل ایک بار پھر دکھی ہوا ۔۔عمیر نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ ہم سفید رنگ کی گاڑی میں اپنے ہمسائے انکل ذیشان کے ساتھ جا رہے تھے  جب ہماری گاڑی ساہیوال قادرآباد کے قریب پہنچی تو ہماری گاڑی پر پیچھے سے فائرنگ کی گئی جس سے گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے اور گاڑی ڈیوائڈر سے جا ٹکرائی اتنے میں دو پولیس کی گاڑیاں  ہماری گاڑی کے سامنے  آگئیں ۔۔ اور اُنہوں نے اندھا دھند انکل ذیشان پر فائر کھول دیا اور وہ مر گئے ۔۔ پھر اہلکاروں نے فائرنگ روک دی اور فون  پر کسی سے بات کرنے لگے ۔۔اسی دوران بابا نے اہلکاروں کی بہت منت سماجت کی ہم سے پیسے لے سب کچھ لے لو نہ مارو ۔مگر اہلکاروں نے ایک نہ سنی ۔۔ میرے بابا نے جب دیکھا کہ یہ ہمیں ماریں گے تو بابا نے مجھے نیچے لٹالیا جبکہ ماما نے دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنے پاؤں میں لٹا دیا اور ہم پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی  گئی ۔۔ہمیں بھی گولیاں لگیں لیکن ہم بچ گئے اہلکاروں نے ہمیں گاڑی سے نکالا اور پھر سے گاڑی پر گولیاں برسائیں ۔۔ ہمیں اپنے ساتھ بٹھایا اور دور ویرانے میں چھوڑ گئے جبکہ میں اور میری چھوٹی بہن گولی لگنے سے تکلیف سے چلا دہے تھے وہاں سے ایک انکل نے ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور نزدیک ہی ایک پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا ۔۔جہاں سے وہ اہلکار ہمیں دوبارہ لے گئے اور اسپتال پہنچا دیا جہاں کچھ وقت کے بعد چچا اور دیگر پہنچ گئے جنہیں میں نے سارا واقعہ بتایا ۔۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا جے آئی ٹی کے سربراہ عمیر کے اس بیان کے بعد تمام تحقیقات کے سامنے فل سٹاپ لگاتے اور اپنی رپورٹ فائنل کر کے حکمرانوں تک پہنچا دیتے ۔۔مگر ایسا نہیں ہوا   تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور پتہ نہیں ان معصوم بچوں کو ابھی کہاں کہاں یہ دردناک  کہانی سنانا پڑے گی مگر اثر نہیں ہوگا ۔۔کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔۔ہم نے شام ، مصر اور عراق میں بچوں کے نشانہ بننے کی  کئی داستانیں پڑی بھی اور سنی بھی  مگر وہ داستانیں میدان جنگ کی ہیں جہاں ہر طرف گولہ باری جاری ہے یہاں تو کوئی گولہ باری جاری نہیں تھی کیا اُس گاڑی سے اہلکاروں پر اتنی شدید فائرنگ ہو رہی تھی کہ اُنہیں سب کو ملیا میٹ کرنے کا حکم دیا گیا ۔۔اور تو اور بچے بھی دکھائی نہ دیئے ۔۔پھر زخمی  تکلیف سے کراہتے بچوں کو یوں ویرانے میں چھوڑ دینا کیا وردی پہننے والوں میں دل نہیں ہوتا کیا ان کی اپنی اولادیں نہیں ہیں ؟ دنیا سے چلے جانے والے تو دنیا سے گئے مگر ان بچوں   کا زندگی بھر یہ واقعہ ان کا پیچھا کرے گا ۔بھولنا چاہیں بھی تو نہیں بھولا پائیں گے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close