کالمز

ادھوری خواہشیں

تحریر:ایڈووکیٹ ساجد وحید سرور

 

بنی نوع انسان کے ابتدائی پیشوں میں زراعت سب سے پہلے ہے۔ ہمارے ملک عظیم کو قدرت نے انتہائی زرخیز میدانوں اور حسین سرسبز و شاداب پہاڑوں سے نوازا ہے۔ سارے موسم، ہر طرح کی زمین اور سب سے بڑھ کر نہر ی نظام جو دنیا کے بہترین نظاموں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا ملک ایسی فصلوں اور پھلوں سے مالا مال ہے جن کے ذائقے اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ جنت نظیر خطہ قدرت کی کمال فیاضی کا مظہر ہے اور زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ تقریبا 70فیصد سے زیادہ لوگ بھی اسی شعبہ سے اپنے روزگار اور روزمرہ کے معاملات چلانے کیلئے وابستہ ہیں۔
لوگ غلہ اور پھل پیدا کرتے ہیں اور حکومتیں بھی حتی المقدور اپنا حصہ ڈالتی ہیں مگر وہ یقیناً ناکافی ہے۔ اگر ہمیں دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنا ہے اور قرضوں سے جان چھڑانا ہے تو اس میں زراعت کا بھی انتہائی اہم رول ہے۔ حکومت وقت سے ایک عاجزانہ اپیل ہے کہ زراعت کے شعبہ کو بھی خصوصی توجہ دیں اور جو طریقہ کار پہلے سے مروجہ ہے اس ڈگر سے ہٹ کر کام کریں۔ حکومت کا کام یہی نہیں ہے کہ کھاد اور بیج کا بندوبست کر دیں یا کھال اور نہروں کی بھل صفائی کرا دیں، یہ بھی یقیناً اہم اور اچھے امور ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے دنیا اب بہت آگے نکل چکی ہے ۔ ہمیں بھی سائنسی و تکنیکی بنیادوں پر زرعی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم صرف ووٹوں کے حصول کو مد نظر رکھ کر ترقیاتی کام کرواتے رہے تو کبھی بھی ترقی نہ ہو سکے گی ہمیشہ طویل مدتی منصوبوں کے ذریعے ہی ترقی و قوع پذیر ہوتی ہے۔ مفادات کی سیاست کو ترک کر کے ملک و قوم کے مفاد کو سینے سے لگانا ہو گا۔
میرے اور آپ کے سامنے یہ عیاں ہے کہ ہم نے کھال پکے کرائے یا راجباہ مگر نہروں کے کنارے کچے ہی رکھے ،کیوں کہ ہمارا مطمع نظر یہ تھا کہ جو چیز عوام کے زیادہ قریب ہے وہ ان کو متاثر کرنے کے لیے بھی زیادہ موثر ہوگی۔ حیران ہوں اس بات پر کہ جہاں سے آپ پانی کا بڑ پیمانے پر تحفظ کر سکتے تھے اس کو چھوڑ دیا اور چھوٹے لیول پر حفاظتی انتظامات بہتر کر دیئے۔ جو ہو چکا وہ بھی کسی حد تک کام ضرور آرہا ہے مگر پالیسیاں بناتے وقت ترجیحات طے ہونی بھی ضروری ہیں اور ہر منصوبے کا مکمل اور بھر پور جائزہ لے کر مکمل جانچ پڑتال کے بعد کم سے کم لاگت کے ساتھ مختصر وقت میں تیار کرنا ہی اصل طریقہ کار ہے جو اہداف کے حصول کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
موضوع بہت طویل ہے مگر میری کوشش ہے کہ مختصراً مسائل کا احاطہ اور جامع حل پیش کرسکوں اور اگر تشنگی رہ گئی تو پھر مزید کالم بھی اس موضوع پر ضبط تحریر میں لاؤں تاکہ ملک و ملت کی خدمت اور تعمیر کے سلسلے میں جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اس سے عہدہ برا ہو سکوں ۔ قارئین کی محبت، توجہ اور تنقید و تجاویز کیلئے بھی چشم براہ ہوں۔
کھاد اور بیج کی ترسیل کے طریقہ کار میں حکومتی اداروں کو ایک منظم اور بلا امتیاز پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اس شعبہ میں ایک بہت اچھی بات یہ ہے کہ کسانوں کو زیادہ تربیت کی ضروت نہیں، بس نئی اور سائنسی معلومات بہم پہنچانا ہوں گی جو پیداوار بڑھانے میں معاون ہوں ۔ بنیادی زرعی علوم سے تو سارے کسان سینہ بہ سینہ علم سے مستفید ہوتے ہی آرہے ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان کے تمام اضلاع کی زمین اور اس میں پیدا ہونے والی فصلوں اور پھلوں ،سبزیوں کا تجزیہ کرنا ہو گا، پھر اس سے حاصل ہونے والے علم کی بنا پر کسانوں میں آگاہی اور سہولت بانٹنی چاہیے۔ کون سے ضلع میں کون سی اجناس، پھل یا سبزیاں کاشت کرنی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کتنی کرنی ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ پیدا شدہ اجناس کے ایک ایک دانے سے بھر پور فائدہ اٹھانا ہے اور بالکل بھی ضائع نہیں ہونے دینا۔ اس کی کئی پالیسیاں پہلے سے حکومتوں نے وضع بھی کر رکھی ہیں مگر ان کا نئے سرے سے جائزہ لے کر مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ جیسے باردانہ بہم پہنچانا، سرکار کے خریداری مراکز میں اجناس کو محفوظ کرنے کیلئے گودام ۔
بے چارے کسان کے ساتھ عملاً ہوتا یہ ہے کہ جس وقت وہ کسی فصل کو کاشت کرنے جاتے ہیں تو ان کی نہ راہنمائی کی جاتی ہے اور نہ ہی مکمل مدد کی جاتی ہے۔ جب اپنی مدد آپ کے تحت وہ فصل اگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اس سے مناسب آمدن حاصل کرنے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ان کی راہ میں حائل ہوجاتی ہیں۔
مثال یوں ہے کہ جب زیادہ گنا اگایا جاتا ہے تو گنے کے ریٹ ایندھن کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی سے بھی کم ہو تا ہے۔ پھر شوگر مل مالکان نے ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور اپنی مرضی سے کرشنگ شروع اور بند کرتے ہیں۔ جس کا نقصان صر ف اور صرف کسان برداشت کرتا ہے۔ اس خود کار استحصالی نظام کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگلے سیزن میں کسان گنا کی کاشت سے اجتناب کرتا ہے اور فصل کم ہونے کی وجہ سے ریٹ مناسب ملتا ہے جن لوگوں نے کاشت نہ کی تھی وہ بے چارے ہاتھ ملتے ہیں۔ اسی طرح تمام فصلوں اور اجناس کا معاملہ ہے۔ تفصیل اس سے زیادہ ممکن نہیں لیکن اگر حکومتی ادارے اس ضمن میں آگاہی مہم چلائیں کونسی فصل کتنی اور کہاں پر کاشت ہونی چاہیے تو زراعت سے ملکی آمدنی بڑی حد تک بڑھ جائے گی اور کسان بھی خوشحال زندگی گزارنے کے قابل ہوں گے۔ اس طرح ملکی ترقی میں اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کر سکیں گے۔ اس طریقہ کار سے حکومت وقت بھی فصلوں کی پیداوار کے صحیح اعداد و شمار سے آگاہ ہو گی اور اپنی ملکی ضروریات سے زائد پیداوار کو ملک سے باہر بھجوا کر زرمبادلہ بھی خوب کما سکیں گے۔
بات پھر وہی ہے کہ اس مملکت خدادا کو اچھے اور ذہین لوگوں کی خدمات درکار ہیں۔ ہر شعبہ میں اہل اور محب وطن لوگوں کو ذمہ داری دے کر قابل عمل پالیسیاں بنوائی جائیں اور پھر ان پر عملدرآمد کروا کے ملکی ترقی کے پہیہ کو تیز سے تیز کر کے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کچھ اچھا کر گزریں ۔
بس خود کو بدل کردنیا کو بدل ڈالیں، قدرت ضرور مدد کرے گی ۔

Show More

Related Articles

One Comment

  1. زراعت پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار کی اجناس کو بروقت ایکسپورٹ کرنے سے ہی زرمبادلہ میں اضافہ ہو گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close