کالمز

کھلی کچہریاں۔۔شاہوں کی خیرہو!!

تحریر:منیر چودھری

کبھی خوابوں کاتذکرہ توکبھی ’کھابوں‘ کے ذکرخیرسے حکمران جماعت ماضی کی سیاسی حکومتوں کوہدف تنقید بناتی، شہنشاہیت اوربادشاہت سے تعبیرکرتی رہی۔ نوازشات،لوازمات،اقدامات اورخواہشات کاتذکرہ کرتے ہوئے حکمرانوں کومغل شہنشاہوں کے خطابات سے نوازاجاتارہا۔ان اعزازات میں قدرے حقیقت بھی ہے اورسیاست بھی۔

مغل شہنشاہ اکبرنے شائد’جھروکہ درشن‘ کی روائت شروع کی تھی،رعایابادشاہ سلامت کے درشن پاکر اسے خوش بختی سے تعبیرکرتے۔” دربارعام “کابھی آغازہواجہاںرعایاکی شکایات،موقع پراحکامات ، سزاوجزاکامیزان سجایاجاتا،نوازش،بخشیش کی بھی نمائش ہوتی،عہدے دیئے جاتے،عہدکئے جاتے۔ خطے میں اب بھی مغلیہ سوچوں کے نشان مٹے نہیں ،قیام پاکستان کے بعدبھی دربارسجتے رہے اورکسی نہ کسی شکل میں اب بھی موجودہیں،اس لئے کہ درباراوردربادی کاچولی دامن کاساتھ رہاہے۔

مارشل لائی ادوارکے بعدجب جمہوری’ دورے‘پڑناشروع ہوتے تواپنے اردگرد’سلامی‘لشکرکی جگہ عوامی بھیڑکی خواہش جنم لیتی ۔’پذیرائی ‘ کی اس کاوش میں کھلی کچہریوں نے جنم لیا۔شکایات سنی جاتیں ، احکامات صادرہوتے ۔۔ عوام کے دکھ جہاں تھے،وہیں سلگتے رہے۔

80ءکی دہائی میں جب ’نیم جمہوریت‘آمریت کی کھڑکی سے باہرجھانکنے کی کوشش میں تھی ،عوامی اعتماد کیلئے حکومت کو جب پذیرائی درکارتھی توشہرشہرکھلی کچہریاں ’برپا‘ہونے لگیں۔کہیں عوامی نمائندے عوامی مسائل کے حل کے دعویدارتھے توکہیں افسرطرف دار۔مسائل حل ہوئے نہ دکھ کم۔۔ 

دھیرے دھیرے عوام بھی جان گئے کہ یہ ’تماشہءبے بسی ہے،،اپنے زخموں کی نمائش ہے!!دھیرے دھیرے کھلی کچہریوں کاباب اوررواج بھی دم توڑتاچلاگیا۔

پنجاب میں خیرسے ایک بارپھرکھلی کچہری کے احکامات اورانتظامات دیکھنے،سننے کومل رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ایک بارپھرہم 80ءکی دہائی میں لوٹ گئے۔

نیتوں کاحال تواللہ جانتاہے مگربندے کے کرداروعمل سے کچھ نتائج اخذکئے جاسکتے ہیں،جاویدمحمودجب چیف سیکرٹری پنجاب تعینات ہوئے توسیکرٹریٹ میں ان کاپہلاروزتھا،پونے9بجے وہ سیدھے اپنے دفتر پہنچے ،ماتحت عملے سے سلام ودعاکے بعدسیکرٹریٹ میں پیدل ہی چل پڑے۔باری باری تمام سیکرٹریز کے دفاترگئے۔انہیں ہردفترمیں فراش اوردرجہ چہارم کاعملہ ہی ملا،سیکرٹریزکامعاون عملہ بھی ابھی تک دفترنہیں پہنچاتھا۔سادگی کی وجہ سے جاویدمحمودکوشائدہی کوئی پہچان پایا،درجہ چہارم کے ملازمین صبح صبح آمدکاسبب اورکام پوچھتے رہے۔وہ ہرایک کویہی کہتے کہ جب صاحب آئیں تومیری حاضری لگوادینا، کہناکہ جاویدمحمودآئے تھے اورسلام کہہ رہے تھے۔جیسے جیسے سیکرٹریزاورعملہ حسب سابق اورحسب عادت 10بجے کے بعدآناشروع ہواتوکسی نے بتایاکہ نوبجے ایک صاحب آئے تھے اورکہہ کرگئے کہ میری حاضری لگوادینااورصاحب کوبتاناکہ جاویدمحمودسلام کہہ رہے تھے۔فون بج اٹھے اورسبھی ایک دوسرے کومطلع کرتے چلے گئے۔قریب گیارہ بجے تمام سیکرٹریزاورعملہ اپنے اپنے دفاترمیں موجودتھا ۔پونے بارہ بجے کسی شیڈول کے بغیر تمام سیکرٹریزچیف سیکرٹری کے دفترمیں جمع ہوگئے۔اجتماعی ندامت کااظہارہوااور بروقت آنے کااقرارہوا۔جاویدمحمودکے چھوٹے سے اصلاحی پیغام سے دیرسے آنے والے رام ہوگئے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی !! جاویدمحموداپنے دفترکے برآمدے میں بیٹھ جاتے اورہرآنے والے سے ملتے، مسائل کے حل کیلئے احکامات صادرکرتے۔تمام سیکرٹریز،اعلیٰ افسروں سمیت ضلعی دفاترکے سربراہوں کے دروازے بھی عوام کیلئے کھول دیئے گئے۔یہ کاوش ن لیگ کی پنجاب میں پذیرائی کی اولین وجہ بنی۔ مجھے اچھی طرح یادہے کہ ڈائریکٹرجنرل اینٹی کرپشن پنجاب نے ایک اورقدم آگے بڑھایااوردفترکے دروازے کومستقل کھول کرکیل لگوادیئے،یعنی ان کے دفترکادروازہ رات کوبھی بندنہیں ہوتاتھا۔نتیجہ یہ نکلاکہ عوامی شکایات کابوجھ کم ہوتاچلاگیا۔دوسرافائدہ یہ ہوا’خاکی لوگ‘بڑے دفتروں کی ’نوری مخلوق‘ سے مل کراعتمادپاتی رہی۔

پنجاب میں ایک بارپھردربارسجانے کاحکم صادرہواہے،ڈپٹی کمشنرز،ڈی پی اوزدربارکے روح رواں، ’چوبداروں‘ کے جلومیں کرسی پربراجمان اورزخم کریدنے کے نیک کام کاہوتاآغاز۔

چند سوالات باربار ذہن کوالجھارہے ہیں کہ آخروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے کس وژن کے تحت اضلاع میں کھلی کچہریا ں’برپا‘ کرنے کاحکم سنایا؟ ضلعی افسرہفتہ کے بقیہ پانچ روزکس محاذپر برسرپیکار ہوں گے؟ایک روزہ کچہری عوامی اعتماد یامسائل کے خاتمے کاسبب ہوسکتی ہے؟وزیراعلیٰ کواتنے نادر مشورے آخرکون دیتا ہے ؟ یہ توایسے ہی ہے کہ آٹورکشہ سے اترکربندہ سائیکل رکشہ پرجاسوارہو۔۔

کاش افسروں کوبروقت دفترمیں حاضری کاپابندبنایاہوتا۔پہرے داراوردروازے شکایت گزاروں کی راہ میں حائل نہ ہوتے۔ ہرافسربروقت دفترپہنچتااورہروقت سائلین سے ملنے کوترجیح دیتا۔ کیمپ آفس کاجھنجھٹ ہوتانہ دورے پہ دورہ پڑتا۔بے سمت اوربے سدھ گاڑیوں کی فراری ہوتی نہ سرکاری پٹرول سے ان کی پیاس بجھائی جاتی۔خزانہ جلتانہ بوجھ بڑھتا۔وہ جنہیں عوام کاخادم ہوناچاہئے تھاوہ ضابط بن کرانسانی ریوڑکاہانک رہے ہیں۔

دربارسلامت رہیں اوردرباریوں کی خیرہو!وزیراعلیٰ صاحب!! عوام کے دکھوں کی نمائش کرنا نہیں ،پیمائش کرناسیکھیں۔ ہم باو ¿نسرکی توقع کررہے ہیںآپ اگرگگلی کریں گے تووسیم اکرم کیاکہے گا؟

Show More

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close