کالمز

یوٹرن ،چیئرمین سینیٹ اور سیاسی جماعتیں؟ تحریر: پروفیسر میاں محمد افتخار الحسن

وزیراعظم عمران خان نے یوٹرن لینے کی بات کی تو ملک کے طول و عرض میں شور اٹھا ،سوشل میڈیا اور ٹاک شوز میں بیٹھے  تجزیہ نگارحمایت  میں بھی بولے اور مخالفت میں بھی دلائل سامنے آئے ۔۔لیکن میدان سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس  حمام میں سبھی ایک جیسے ہیں ۔۔کبھی برسراقتدار ٹولہ یوٹرن لیتا ہے تو کبھی اپوزیشن بھی  یوٹرن لیتے دکھائی دیتی ہے مطلب کے سیاسی مفادات حکومت کرنے والی پارٹی کو بھی عزیز ہوتے ہیں تو اپوزیشن بھی کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھاتی کہ جس کے نتیجے میں اُسے سیاسی مفادات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو ۔۔ وزیراعظم عمران خان نے تو سب کے سامنے برملا اعلان کردیا کہ یوٹرن  نہ لینے والا  لیڈر ہی نہیں ہوتا    تاہم اپوزیشن کا  یو ٹرن  لینے  کا انداز   ذرا مختلف ہے ۔۔چیئرمین سینیٹ کو ہی لے لیجئے ۔۔جب  چیئرمین سینیٹ کے انتخابات ہوئے ملکی سیاسی منظر نامے پر کیا ہل چل تھی اور کس نے کیا سیاسی چال چلی کہ سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کی ایک نہ چل سکی ۔۔بلوچستان میں کیا سیاسی چالیں چلیں گئیں ۔۔ چار سو ان کا تذکرہ بھی تھا جبکہ فاتحانہ رویہ بھی اپنایا گیا ۔مگر سچ کہتے ہیں کہ بعض اوقات زیادہ دانشمندی بھی آپ کو مروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ۔۔ بعض سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری کو اُس وقت ن لیگ  اور نواز شریف کے خلاف اس حد تک نہ جانے کا مشورہ دیا مگر وہ نہ مانے بلکہ بیان بھی دے دیا کہ وہ نواز شریف سے کبھی ملاقات نہیں کریں گے ۔۔حتی کہ جلسوں میں بھی آصف زرداری نے ن لیگ اور نواز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔۔غرضیکہ وقت گزرتا گیا نواز شریف نہ صرف اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ بیٹی اور داماد سمیت اڈیالہ جیل میں ڈال دیئے گئے ۔۔ دانشمند سیاسی رہنماؤں کا کیا ردعمل تھا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔۔ یہ سب کچھ ہو گیا ۔۔ اب سیاسی بصیرت رکھنے والے کی آنکھیں کھلیں جب اُس کے اپنے خلاف شکنجا تیار کر لیا گیا ۔۔اب وہ وقت آیا جب مفاہمت کے بادشاہ نے یوٹرن لینے کا فیصلہ کیا ۔۔ کیونکہ اس صورتحال میں اپوزیشن کے ساتھ اتحاد بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔۔ لہٰذا بڑا یوٹرن لیا گیا اور آصف زرداری بیٹے کے ہمراہ شہباز شریف کے چیمبر میں جا پہنچے ۔۔دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بڑی بیٹھک لگائی اور متحدہ اپوزیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔۔ پیپلزپارٹی کے کرتا دھرتاؤں کو یو ٹرن کا مثبت جواب ملا کیونکہ دوسری طرف بھی قافلہ نہ صرف لٹا پٹا ہے بلکہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی ہے ۔۔ پس سب کچھ بھول گئے اور پھر سے ایک ہو گئے ۔۔اب متحدہ اپوزیشن کس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے؟ حکومتی ٹولے کے لئے یہ سب سے بڑا اور اہم سوال ہے ۔۔  اپوزیشن اس وقت مختلف تدابیر اختیار کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے ۔۔چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کے معاملے پر اپوزیشن کو یو ٹرن لینا ہوگا ۔۔تاہم اپوزیشن احتیاط کا دامن تھامے ہوئے ہے ۔۔ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اُس وقت لائی جائے گی جب حکومت دھمکیوں سے آگے بڑھے گی یعنی اپوزیشن کے خلاف عملی اقدام اٹھائے گی  یا کوشش کرے گی ۔۔ تاہم یہ واضح ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک  عدم اعتماد لانے کی تیاریاں مکمل ہیں اور حکومت گرانے کی صورت میں اس  کے منفی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔۔دوسری طرف چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے پہلے چار پہلوؤں کا جائزہ  لیا جائے گا ۔۔پہلا یہ  کہ چیئرمین سینیٹ کی ازخود عہدے سے علیحدہ ہونے کی پیش کش کا انتظار کیا جائے دوسرا یہ کہ چیئرمین سینیٹ سے اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کے لئے حمایت طلب کی جائے گی  تیسرا یہ کہ  چئیرمین سینٹ کی اپوزیشن کی سیاسی حمایت کا ٹیسٹ نیب اختیارات کے خلاف قانونی مسودے کی حمایت کی صورت میں لیا جائیگا اور چوتھا یہ کہ سندھ حکومت کے معاملات میں عملی مداخلت کے خطرے کی صورت میں بھی سرپرائز تحریک عدم اعتماد لائی جائیگی ۔۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپوزیشن مکمل تیاری کر چکی ہے صرف  حکومت کے رویئے اور مناسب وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔۔اپوزیشن یو ٹرن پر یو ٹرن لینے کے لئے تیار ہے  اور بعض لے بھی چکی ہے ۔۔دوسری جانب  حکومت کے رستے میں سب سے بڑا مسئلہ ناتجربہ کاری ہے ۔۔بظاہر اس کے پاس اپوزیشن کی حکمت عملی اور یوٹرن سے  نمٹنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے جبکہ  قومی اسمبلی میں عددی اکثریت بھی کچھ زیادہ نہیں ۔۔اختر مینگل کا ایک فیصلہ  حکومتی ایوانوں میں بھونچال کا باعث بن جائے گا اور اس کی درو  دیوار ہل جائے گی ۔۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا  پی ٹی آئی کی حکومت سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ کرے گی اور اپوزیشن کے خلاف کھولے گئے محاذ سمیٹنے کی کوشش کرے گی یا نہیں ۔تاہم اس وقت حکومتی سیاسی  ہاکس کو معاملے کی سمجھ بوجھ نہیں ۔جبکہ عوام میں بھی ان  کی جڑیں مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہو رہی ہیں  ۔۔ایسے میں حکومت کو صرف دانشمندانہ سیاسی چال ہی بچا سکتی ہے ۔۔جو برسر اقتدار ٹولے سے متوقع نہیں

Show More

Related Articles

One Comment

  1. بالکل بجا ھے کہ یو ٹرن لینے میں تو کسی نے کسر نہیں چھوڑی ، مگر مجھے جو نظر آ رہا ھے وہ یہ ھے کہ اپو زیشن گروپ اپنے تجربات اور مفا ھمت کے گرو کی سیاسی چال کے بل بوتے پر کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتی ھے ، جب کہ حکومت جیسا کہ سب جانتے ھیں اپنی نا تجربہ کاری کی بنا پر مار کھا تی نظر آ رھی ھے .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close